ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اسقاط حمل کی مدت 26 ہفتوں تک کرنے کو لے کر وزارت صحت نے کورٹ کو دیا اپنا حلف نامہ

اسقاط حمل کی مدت 26 ہفتوں تک کرنے کو لے کر وزارت صحت نے کورٹ کو دیا اپنا حلف نامہ

Wed, 07 Aug 2019 22:23:16    S.O. News Service

نئی دہلی، 7 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اسقاط حمل کرانے کی مدت بڑھانے کو لے کر ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔اس درخواست پر سماعت کے دوران وزارت صحت نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ حاملہ عورت کی صحت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کے اسقاط حمل کی معیاد 20 ہفتے سے بڑھا 24 سے 26 ہفتے کرنے کو لے کر وزارت نے تبادلہ خیال شروع کر دیا ہے۔متعلقہ وزارت اور نیتی آیوگ کی رائے لینے کے بعد اسقاط حمل سے متعلق قانون میں ترمیم کے مسودے کو جلد ہی حتمی شکل دی جائے گی،جس کے بعد اسے وزارت قانون کو بھیج دیا جائے گا تاکہ اسقاط حمل سے متعلق قانون پر ضروری ترمیم ہو سکے۔وزارت صحت نے کورٹ کو یہ بھی بتایا ہے کہ اس نے اسقاط حمل سے متعلق طبی ٹرمنیشن آف پریگنینسی (ایم ٹی پی) قانون، 1971 میں ترمیم کو لے کر اپنا مسودہ قانون کی وزارت کے پاس بھیج دیا ہے۔س کے بعد وزارت قانون نے وزارت صحت کو کہا تھا کہ ابھی پارلیمنٹ کے دونوں ایوان غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہیں۔ایسے میں نئی حکومت بننے کے بعد اس مسئلے پر غور کریں گے۔وزارت صحت نے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر کی بنچ کے سامنے حلف نامہ داخل کیا ہے۔وزارت نے یہ حلف نامہ درخواست گزار اور وکیل امت ساہنی کی پٹیشن کے معاملے میں داخل کیا ہے۔امت ساہنی نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ خاتون اور اس کے جنین کی صحت کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اسقاط حمل کرانے کی مدت 20 ہفتے سے بڑھا 24 سے 26 ہفتے کر دی جائے۔اس کے علاوہ غیر شادی شدہ خاتون اور بیواؤں کو بھی قانونی طور پر اسقاط حمل کرانے کی اجازت دی جائے۔امت ساہنی نے اس مفاد عامہ کی عرضی میں کئی عملی پریشانیوں کا ذکر کیا ہے جو معاشرے میں حمل کے بعد خواتین کو جھیلنی پڑتی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جس طرح سے حمل کا حق خاتون کے پاس ہے اسی طرح اسقاط حمل کرانے کا بھی حق خاتون کے پاس ہونا چاہئے،کیونکہ صرف بچے کو جنم دے کر ہی خاتون کی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی بلکہ بچے کے پرورش کی ذمہ داری بھی عورت پر ہوتی ہے۔ایسے میں اگر وہ اس ذمہ داری پر زندگی بھر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو اسے اسقاط حمل کی اجازت ملنی چاہیے۔


Share: